عمرہ کا طریقہ قدم بہ قدم (مردوں اور خواتین کے لیے)
قرآن، سنت اور معتبر علماء کے فتاویٰ پر مبنی ایک عملی گائیڈ، ہر حکم کے حوالے کے ساتھ۔ بعض تفصیلات میں فقہی مذاہب کے درمیان اختلاف ہے، اس لیے ضرورت ہو تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔
عمرہ کے ارکان
- احرام (نیت کے ساتھ احرام کی حالت میں داخل ہونا)
- طواف
- سعی
حوالہ: شیخ ابن باز کے فتاویٰ
عمرہ کے واجبات
- میقات سے احرام باندھنا
- سر منڈوانا یا بال کٹوانا
احرام کی پابندیاں
- بال اتارنا، ناخن کاٹنا، خوشبو لگانا
- سلا ہوا (جسم کی ساخت پر) لباس پہننا اور سر ڈھانپنا (مرد)
- خشکی کے جانور کا شکار، نکاح کرنا، ہمبستری اور اس کے مقدمات
حوالہ: شیخ ابن باز، "محرم کن نو چیزوں سے بچے"
میقات پر احرامتیاری اور نیت
میقات پر غسل کرنا اور صفائی کرنا مستحب ہے۔ مرد خوشبو جسم پر لگائے، احرام کی چادروں پر نہیں۔ مرد دو چادریں پہنتا ہے، نیچے کی چادر (ازار) اور اوپر کی چادر (رداء)، بہتر ہے سفید ہوں۔ عورت اپنے عام کپڑوں میں بغیر زینت کے احرام باندھتی ہے۔
پھر دل میں نیت کریں اور کہیں:
لبيك عمرةلبیک عمرۃً: "اے اللہ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔"اگر کسی رکاوٹ (بیماری وغیرہ) کا اندیشہ ہو تو شرط لگا لیں:
فإن حبسني حابس فمحلي حيث حبستنيفإن حبسنی حابس فمحلی حیث حبستنی: "اگر کوئی رکاوٹ مجھے روک دے تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔"حوالہ: شیخ ابن باز، "عمرہ کے اعمال"۔
تلبیہطواف شروع کرنے تک
کعبہ تک پہنچنے تک کثرت سے تلبیہ اور ذکر کریں۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك"میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک ساری تعریف، نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔"کعبہ پہنچ کر طواف شروع کرتے وقت تلبیہ بند کر دیں۔ مسجد میں دایاں پاؤں پہلے رکھیں اور کہیں: "اللهم افتح لي أبواب رحمتك" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔
تلبیہ کے الفاظ: صحیح بخاری (1549)، صحیح مسلم (1184)۔
طوافکعبہ کے گرد سات چکر
- حجر اسود سے شروع کریں۔ اگر دھکم پیل کے بغیر ممکن ہو تو اسے چھوئیں اور بوسہ دیں؛ ورنہ اس کی طرف اشارہ کر کے "اللہ اکبر" کہیں۔
- کعبہ کو اپنے بائیں جانب رکھ کر باوضو سات چکر لگائیں۔
- مردوں کے لیے پورے طواف میں دایاں کندھا کھلا رکھنا (اضطباع) اور پہلے تین چکروں میں چھوٹے قدموں سے تیز چلنا (رمل) سنت ہے۔
- اگر ممکن ہو تو رکن یمانی کو چھوئیں، اسے بوسہ نہ دیں اور نہ اس کی طرف اشارہ کریں۔
- ہر چکر کے لیے کوئی مخصوص دعا نہیں۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ پڑھیں:
ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار"اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔"حوالہ: شیخ ابن باز؛ آیت سورۃ البقرہ 2:201۔
طواف کے بعد دو رکعتاگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے
اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے، ورنہ مسجد میں کہیں بھی دو رکعت نماز پڑھیں۔ سورۃ الفاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھیں۔ پھر زمزم پئیں۔
حوالہ: نبی ﷺ کے حج کے بارے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث، صحیح مسلم (1218)۔
صفا اور مروہ کے درمیان سعیصفا سے شروع کر کے سات چکر
صفا پر چڑھیں یا اس کے قریب کھڑے ہو کر پڑھیں:
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ﴾"بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔"- قبلہ رخ ہو کر اللہ کی حمد کریں، اللہ اکبر کہیں اور ہاتھ اٹھا کر تین بار دعا کریں۔
- مروہ کی طرف چلیں۔ مرد دو سبز نشانوں کے درمیان تیز چلتے ہیں؛ خواتین نہیں۔
- جانا ایک چکر اور واپس آنا دوسرا چکر ہے، اس لیے آپ مروہ پر ختم کرتے ہیں۔ باوضو ہونا مستحب ہے، لازم نہیں۔
سورۃ البقرہ 2:158؛ شیخ ابن باز، "عمرہ کے اعمال"۔
حلق یا قصراس کے ساتھ عمرہ مکمل ہو جاتا ہے
- مرد سر منڈواتا ہے (حلق) یا بال چھوٹے کرواتا ہے (قصر)۔ منڈوانا افضل ہے، سوائے اس کے کہ حج قریب ہو؛ تب قصر بہتر ہے تاکہ حج میں سر منڈوا سکے۔
- عورت اپنے بال اکٹھے کر کے انگلی کے پور کے برابر یا اس سے کم کاٹتی ہے۔
اس کے ساتھ عمرہ مکمل ہو جاتا ہے، اور احرام کی وجہ سے جو چیزیں منع تھیں وہ دوبارہ حلال ہو جاتی ہیں۔
حوالہ: شیخ ابن باز، "عمرہ کے اعمال"۔
خواتین کے لیے
- عورت اپنے عام باپردہ کپڑوں میں، بغیر زینت کے احرام باندھتی ہے۔ نقاب اور دستانے نہیں پہنتی، اور غیر محرم مردوں سے چہرہ کسی اور طریقے سے چھپاتی ہے۔
- حیض یا نفاس والی عورت احرام باندھتی ہے اور پاک ہو کر غسل کرنے تک طواف کے سوا سب کچھ کرتی ہے۔
- سعی میں دو سبز نشانوں کے درمیان تیز نہیں چلتی۔
- اپنے بالوں سے انگلی کے پور کے برابر یا اس سے کم کاٹتی ہے۔
میقات
| میقات | موجودہ نام | کن کے لیے |
|---|---|---|
| ذوالحلیفہ | ابیار علی | مدینہ |
| جحفہ | رابغ | مصر، شام، شمالی افریقہ |
| قرن المنازل | السیل الکبیر | نجد اور طائف |
| یلملم | السعدیہ | یمن (اور پاکستان و ہندوستان سے آنے والے) |
| ذات عرق | الضریبہ | عراق |
میقات کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث: صحیح بخاری (1524)، صحیح مسلم (1181)۔ ہوائی جہاز سے آنے والے اس وقت احرام باندھتے ہیں جب جہاز میقات کے برابر سے گزرے۔
معتمر کی تیاری کی فہرست
- احرام کی چادریں (ازار اور رداء)
- پاسپورٹ اور ویزا
- نسک ایپ میں عمرہ پرمٹ
- چلنے کے لیے آرام دہ جوتے
- چھتری اور پانی کی بوتل
- ذاتی ادویات
- فون کے لیے پاور بینک
- ہوٹل بکنگ، پرنٹ شدہ یا فون میں
حوالہ جات
- قرآن مجید: سورۃ البقرہ (158، 196، 197، 201، 203)، آل عمران (97)
- صحیح مسلم (1218): نبی ﷺ کے حج کے بارے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث
- صحیح بخاری (1773) اور صحیح مسلم (1349): عمرہ اور حج مبرور کی فضیلت
- شیخ عبدالعزیز ابن باز: عمرہ کے اعمال (عربی)
- شیخ ابن باز: حج اور عمرہ کے ارکان (عربی)
- شیخ ابن باز: محرم کن نو چیزوں سے بچے (عربی)
- صحیح بخاری (1549) اور صحیح مسلم (1184): تلبیہ کے الفاظ
- صحیح بخاری (1524) اور صحیح مسلم (1181): میقات
آخری اپ ڈیٹ: 2026-10-23